*نیند میں پیشاب Urinating in sleep
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچوں میں نیند کے دوران پیشاب نکل جانا (جسے طبّی زبان میں *اینوریسس* کہا جاتا ہے) ایک عام مگر حساس مسئلہ ہے۔ اکثر والدین اس صورتحال سے پریشان ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب بچہ 10، 12 یا 15 سال کی عمر تک بھی اس عادت سے باہر نہ نکل سکے۔ یاد رکھیں کہ یہ بیماری نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج حالت ہے، جس کے پیچھے جسمانی، نفسیاتی اور عادات سے متعلق کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ بروقت توجہ، محبت اور مناسب تدابیر سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے
**نیند میں پیشاب آنے کی وجوہات **
**مثانے کی کمزوری**
*Bladder weakness*
بعض بچوں کا مثانہ مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ پیشاب روک نہیں پاتے۔
**گہری نیند **
کچھ بچے بہت گہری نیند سوتے ہیں، انہیں پیشاب کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
**ہارمون کی کمی **
(ADHہارمون )
(ADH hormone)
یہ ایک ایساہارمون ہے جو رات کے وقت پیشاب کم بناتا ہے، اس کی کمی بھی سبب بن سکتی ہے۔
**نفسیاتی عوامل **
* خوف
* ذہنی دباؤ
* اسکول یا گھر کے مسائل
یہ سب بچوں میںبستر گیلا کرنا(نیند میں پیشاب) کا سبب بن سکتے ہیں۔
**وراثتی اثر **
اگر والدین میں سے کسی کو بچپن میں یہ مسئلہ رہا ہو تو بچوں میں بھی اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
**قبض یا پیشاب کی نالی کا انفیکشن**
بعض جسمانی بیماریاں بھی اس مسئلے کی وجہ بن سکتی ہیں۔
**اہم علامات**
* رات کو بار بار بستر گیلا کرنا
* گہری نیند میں بے خبری
* بعض اوقات دن میں بھی پیشاب کا کنٹرول کم ہونا
**علاج (Treatment)**
**طبی علاج **
* اگر مسئلہ زیادہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں
(ADH hormone therapy)
* بعض اوقات ادویات (ہارمون تھراپی) دی جاتی ہیں۔
**گھریلو و دیسی علاج **
: ✔ شہد کا استعمال
سونے سے پہلے ایک چمچ شہد دینا مفید سمجھا جاتا ہے۔
: اخروٹ اور کشمش
روزانہ 1 اخروٹ اور چند کشمش دینا مثانے کو مضبوط بناتا ہے۔
✔ :دارچینی
دارچینی کا چھوٹا ٹکڑا چبانا مفید ہے۔
**احتیاطی تدابیر (Precautions)**
✔ *سونے سے پہلے پانی کم دیں۔
*رات کو زیادہ پانی یا مشروبات نہ پلائیں۔
✔ *سونے سے پہلے پیشاب کروائیں۔
*بچے کو لازمی واش روم لے جائیں۔
* ✔ رات میں ایک بار جگانا۔
خاص طور پر چھوٹے بچوں کو رات میں ایک بار جگا کر پیشاب کروانا مفید ہے۔
: ✔ نرم رویہ اختیار کریں
❌ *بچے کو ڈانٹیں نہیں
✔ *پیار اور حوصلہ دیں
: ✔ بستر کی صفائی کا خیال
*صاف ستھرا ماحول بچے کے اعتماد کو بڑھاتا ہے۔
**نفسیاتی پہلو (بہت اہم)**
یاد رکھیں!
*یہ مسئلہ بچے کی مرضی سے نہیں ہوتا۔
*اگر والدین سختی کریں گے تو مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
* ✔ بچے کو احساسِ جرم نہ دیں۔
✔ *اس کی حوصلہ افزائی کریں۔
**کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟**
* اگر بچہ 7 سال سے زیادہ عمر کا ہو اور مسئلہ برقرار ہو۔
* دن میں بھی پیشاب کنٹرول نہ ہو۔
* پیشاب میں جلن یا درد ہو۔
کیا گھر میں بد روحوں کے اثرات ہیں؟
نیند میں پیشاب آنا ایک وقتی اور قابلِ حل مسئلہ ہے، نہ کہ کوئی دائمی بیماری۔ والدین کا صبر، محبت اور درست رہنمائی اس مسئلے کے حل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ نرمی کا رویہ اپنایا جائے تو نہ صرف یہ عادت ختم ہو سکتی ہے بلکہ بچے کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔ مناسب احتیاطی تدابیر، متوازن غذا اور ضرورت پڑنے پر طبی مشورہ اس مسئلے کے بہترین حل ہیں۔
*اگر آپ کے بچے کو بھی یہ مسئلہ درپیش ہے تو آج ہی ان آسان تدابیر پر عمل کریں اور فرق خود محسوس کریں!*
*یہ معلومات دوسروں تک بھی پہنچائیں — کسی کی پریشانی کم ہو سکتی ہے۔*
حکیم افتخارالحسن رائیونڈی

, very nice
ReplyDeleteبہت سے گھرانوں کا یہ مسئلہ ان معلومات پر عمل کرنے سے حل ہو جائے گا
ReplyDeletebot xkrio
ReplyDelete