ہم وقت سے فائدہ کیسے اُٹھاسکتے ہیں
جب وقت ہی سرمایہ ہو تو مصروفیت ہی منافع ہے
انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ مال و دولت نہیں بلکہ **وقت ** ہے۔ دولت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، صحت بھی کسی حد تک واپس آ سکتی ہے، مگر گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ اسی لیے دانا لوگ کہتے ہیں کہ جس نے وقت کی قدر کر لی، اس نے کامیابی کی کنجی پا لی۔
وقت دراصل ایک ایسا سرمایہ ہے جو ہر انسان کو برابر ملتا ہے۔ امیر ہو یا غریب، عالم ہو یا جاہل — سب کو دن کے چوبیس گھنٹے ہی عطا ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کوئی ان لمحوں کو مقصد، محنت اور ترقی میں بدل دیتا ہے، جبکہ کوئی انہیں غفلت، سستی اور بے مقصد مصروفیات میں ضائع کر دیتا ہے۔
جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وقت ہی اصل سرمایہ ہے تو پھر ہماری سوچ بدل جاتی ہے۔ ہم غیر ضروری گفتگو، فضول مشاغل اور ٹال مٹول سے بچنے لگتے ہیں۔ ایسے میں *مصروفیت *(Engagement) صرف کام کرنے کا نام نہیں رہتی بلکہ مقصد کے ساتھ جڑے رہنے کا نام بن جاتی ہے۔ یہی مصروفیت انسان کے لیے منافع ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ اسے علم، تجربہ، کامیابی اور عزت میں تبدیل کر دیتی ہے۔
وقت کی قدر کرنے والا انسان ہمیشہ منظم ہوتا ہے۔ وہ اپنے دن کا منصوبہ بناتا ہے، ترجیحات طے کرتا ہے اور ہر کام کو اس کے وقت پر انجام دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص وقت کو معمولی سمجھتا ہے، وہ اکثر پریشانی، ناکامی اور حسرت کا شکار رہتا ہے۔ وہ بعد میں یہی کہتا ہے: *کاش میں نے وقت کی قدر کی ہوتی۔*
زندگی کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ ہم ہر لمحے کو قیمتی سمجھیں۔ جو وقت ہمیں ملا ہے وہ دراصل ایک امانت ہے۔ اسے نیکی، علم، خدمت اور محنت میں صرف کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
**آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:**
جب انسان وقت کو سرمایہ سمجھ کر جینا شروع کر دیتا ہے تو اس کی ہر مصروفیت فائدہ بن جاتی ہے، ہر قدم ترقی کی طرف بڑھتا ہے، اور زندگی بامعنی ہو جاتی ہے۔
**وقت خاموشی سے گزر جاتا ہے، مگر اپنے پیچھے یا تو کامیابی چھوڑ جاتا ہے یا حسرت — فیصلہ ہمارے استعمال کا ہوتا ہے۔
تحریر:حکیم افتخار الحسن رائیونڈی
Comments
Post a Comment