کن امور کی وجہ سے روزہ کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے۔
For what reasons is it necessary to make expiation for fasting?
روزے کا **کفارہ** صرف ہر غلطی پر لازم نہیں ہوتا بلکہ مخصوص سنگین صورتوں میں فرض ہوتا ہے۔ شریعت کے مطابق درج ذیل امور کی وجہ سے روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے:
❖ :وہ امور جن سے روزے کا کفارہ لازم ہوتا ہے:
**1. جان بوجھ کر کھانا یا پینا **
اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ یاد ہوتے ہوئے عمداً کھائے یا پیئے تو اس پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوگا۔
** قصداً جماع یعنی مباشرت(Intercourse)**
رمضان کے دن میں بیوی سے جان بوجھ کر جماع کرنا کفارہ کا سب سے واضح سبب ہے۔
یہ حکم احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے جو محمد ﷺ سے مروی ہیں۔
** ایسی دوا یا غذا لینا جو بدن میں داخل ہو اور روزہ توڑ دے **
اگر کوئی شخص قصداً ایسی چیز استعمال کرے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے (مثلاً غذا، انجکشنِ غذائیت وغیرہ)، تو کفارہ لازم ہوگا۔
! ❖ کن صورتوں میں کفارہ نہیں، صرف قضا ہے؟
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر روزہ ٹوٹنے پر کفارہ نہیں ہوتا۔ صرف قضا ہوگی اگر:
* بھول کر کھا پی لیا:
* بیماری یا سفر کی وجہ سے روزہ توڑا ۔ * قے خود بخود ہوگئی۔ * انجکشن علاج کے لیے لگا (غذائی نہ ہو)۔ * روزہ توڑنے پر مجبور کیا گیا ہو۔
! ❖ کفارہ ادا کرنے کا طریقہ:
کفارہ تین درجوں میں سے ترتیب کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے:
1. ایک غلام آزاد کرنا (آج کے دور میں ممکن نہیں)
2. مسلسل 60 روزے رکھنا۔
3. اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
یہ ترتیب فقہائے امت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کی ہے، خصوصاً قرآن مجید اور سنتِ نبوی سے۔
** ✔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ اطاعت، احتیاط اور تقویٰ کی عملی تربیت ہے۔
جو شخص روزے کی حرمت کا خیال رکھتا ہے وہ دراصل اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے، اور جو لغزش ہو جائے تو توبہ و کفارہ کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع کرنا ہی بندگی کی اصل شان ہے۔
رمضان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ خطا سے بچیں، اور اگر خطا ہو جائے تو عاجزی سے پلٹ آئیں۔
Comments
Post a Comment