کیاغسلِ جناب واجب ہو تو سحر کرسکتے ہے؟
*جی ہاں، اگر کسی پر **غسلِ جنابت واجب ہو**
تو وہ سحری کر سکتا ہے۔
شرعی حکم یہ ہے کہ:
* حالتِ جنابت میں **کھانا پینا جائز ہے**، اس لیے سحری کی جا سکتی ہے۔
* روزہ بھی درست ہو جاتا ہے، بشرطیکہ **فجر کے بعد جلد غسل کر کے نماز ادا کر لی جائے**۔
* البتہ بہتر اور مستحب یہ ہے کہ سحری سے پہلے کم از کم **وضو کر لیا جائے**۔
خلاصہ:
غسل واجب ہونے کی حالت میں سحری کرنا جائز ہے، روزہ بھی ہو جائے گا، لیکن نماز کے لیے فجر کے بعد غسل ضروری ہے۔
اس مسئلہ پر چند مختصر اور معتبر فقہی حوالہ جات درج ہیں:
! احادیثِ مبارکہ سے دلیل
حضرت عائشہؓ اور حضرت اُمِّ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ:
نبی کریم ﷺ پر بعض اوقات رات کو ازدواجی تعلق کی وجہ سے غسل واجب ہوتا،
پھر **فجر طلوع ہو جاتی جبکہ آپ ﷺ جنابت کی حالت میں ہوتے**
اس کے بعد آپ ﷺ **غسل فرماتے، نماز ادا کرتے اور روزہ جاری رکھتے **۔
یہ حدیث موجود ہے:
* صحیح بخاری (حدیث: 1926 وغیرہ)
* صحیح مسلم (حدیث: 1109)
✔ درست فقہی مفہوم
* غسل نماز کے لیے کیا جاتا ہے، روزہ اس سے پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
* فجر کا داخل ہونا جنابت کی حالت میں ہو سکتا ہے۔ * اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
!یعنی
**غسل روزہ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ نماز کے لیے کیا جاتا ہے**۔
!فقہِ حنفی کی تصریحات
2. فقہ حنفی کی معتبر کتاب میں ہے:
اگر کسی پر غسل واجب ہو اور فجر طلوع ہو جائے تو: ۔
**روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ نماز کے لیے غسل ضروری ہے۔ **
یہ مسئلہ مذکور ہے: ۔ *ہدایہ ** بدائع الصنائع **
! خلاصۂ فقہی حکم
✔ *نماز کے لیے غسل فرض۔ ✔ *بہتر ہے سحری سے پہلے وضو کر لیا جائے۔
*جنابت کی حالت میں سحری جائز۔ ✔ *روزہ درست۔
تحریر:حکیم افتخار الحسن رائیونڈی

Comments
Post a Comment