آبِ زم زم کاتعارف وفضیلت Introduction and virtues of Zamzam water
آبِ زم زم کاتعارف وفضیلت Introduction and virtues of Zamzam water
آبِ زم زم کاتعارف وفضیلت
ٍ آبِ زمزم ایک مقدس پانی ہے جو مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے قریب واقع زمزم کے کنویں سے نکلتا ہے۔ یہ کنواں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے معجزاتی طور پر نکلا تھا، جب حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) اپنے شیر خوار بیٹے کی پیاس بجھانے کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ رہی تھیں۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے زمین سے پانی کا چشمہ جاری کیا، جوزمزم کہلایا۔
**لفظ زمزم کا مطلب:**
زمزم کا مطلب ہے رک جا، رک جا۔ یہ الفاظ حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے اُس وقت کہے جب چشمہ تیزی سے نکلنے لگا، اور وہ پانی کو روکنے لگیں تاکہ ضائع نہ ہو۔
**آبِ زمزم کی فضیلت:**
اسلامی تعلیمات کے مطابق، آبِ زمزم ایک بابرکت اور شفا بخش پانی ہے۔ اس کے بارے میں کئی احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں جو اس کی فضیلت کو بیان کرتی ہیں:
نبی کریم ﷺ کا فرمان:**
**ماء زمزم لما شُرب له**
> **(سنن ابن ماجہ)**
> ترجمہ: زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے، اسی کے لیے مفید ہوتا ہے۔
یعنی اگر کوئی صحت، علم، روزی یا کسی اور نیک مقصد سے یہ پانی پئے، تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔
شفا کا ذریعہ:**
نبی ﷺ نے خود بھی آبِ زمزم کو پیا اور اس سے وضو فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔
**3. بہترین پانی:**
**"خیر ماء على وجه الأرض ماء زمزم"**
(ابن ماجہ)
> ترجمہ: "زمین پر سب سے بہتر پانی زمزم کا پانی ہے۔"
فرشتے کا معجزہ:**
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے زمین کو مارا اور چشمہ جاری کیا۔ یہ آسمانی مدد کا بھی نشان ہے۔
پیاس بجھانے والا:**
نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے لمبے سفر میں زمزم سے اپنی پیاس بجھائی اور کئی بار کھانے کی جگہ صرف زمزم پر گزارا۔
**آج کے دور میں:**
زمزم کا پانی آج بھی لاکھوں حاجیوں اور عمرہ زائرین کے لیے روحانی اور جسمانی تسکین کا ذریعہ ہے۔ اسے دنیا بھر کے مسلمان نہایت عقیدت سے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
**نتیجہ:**
آبِ زمزم صرف پانی نہیں بلکہ ایمان، توکل، دعا اور معجزے کی ایک علامت ہے۔ اس میں دنیا و آخرت دونوں کے فائدے پوشیدہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسے ادب، شکر اور دعا کے ساتھ پئیں۔
تحریر:حکیم افتخارالحسن رائیونڈی

Comments
Post a Comment