روزوں میں مباشرت اور بوسہ لینے کے احکامات Kissing and sexsual rules in fasting
ماہِ رمضان کے مقدس ایام میں میاں بیوی کو اپنے ازدواجی تعلقات بالخصوص نئے نویلے شادی شدہ جوڑوں کو جنسی معاملات میں کیا کیا احتیاطیں برتنی ہیں اس بارے میں قرآن وحدیث کے احکامات ملاحظہ ہوں:
سورہ بقرہ میں فرمان ِ باری تعالیٰ ہے:
اُحِلَّ لَکُمْ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ
وَاَنۡتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّؕ عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ کُنۡتُمْ تَخْتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمْ
فَتَابَ عَلَیۡکُمْ وَعَفَا عَنۡکُمْۚ فَالۡـٰٔنَ بٰشِرُوۡہُنَّ وَابْتَغُوۡا مَا
کَتَبَ اللہُ لَکُمْ۪ وَکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیۡطُ
الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ
اِلَی الَّیۡلِۚ وَلَا تُبٰشِرُوۡہُنَّ وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَۙ فِی الْمَسٰجِدِؕ تِلْکَ
حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَاؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ اٰیٰتِہٖ
لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ*
عربی متن میں فونٹ کی وجہ سے کوئی زیر زبر ،قومہ ،شدUpset ہوتو آپ نے اصل مسودہ کی طرف رجوع کرنا ہے
!ترجمہ: تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو، اﷲ کو معلوم ہے کہ تم اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تمہارے حال پر رحم کیا اور تمہیں معاف فرما دیا، پس اب (روزوں کی راتوں میں بیشک) ان سے مباشرت کیا کرو اور جو اﷲ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے چاہا کرو اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو، اور عورتوں سے اس دوران شب باشی نہ کیا کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو، یہ اﷲ کی (قائم کردہ) حدیں ہیں پس ان (کے توڑنے) کے نزدیک نہ جاؤ، اسی طرح اﷲ لوگوں کے لئے اپنی آیتیں (کھول کر) بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں *( بقرہ آیت نمبر ۱۸۷)
* نوٹ:واضح ہو کہ اس آیت مبارک کے نزول سے قبل رمضان المبارک میں افطاری کے بعدرات کوبھی مباشرت جائز نہیں تھی ۔
مگربعض لوگ اس امر(بیوی سے مباشرت کرنے کے سلسلہ) میں خیانت کرتے تھے۔جس پر اللہ رؤف الرحیم نے مومنوںپر مہربانی فرمائی اور روزوں کی راتوں میںمباشرت کرنے کی اجازت دے دی۔
میںیہاں پر چند باتیں عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوںکہ یہ مباشرت کرنیکی اجازت صرف رات کے وقت ہے۔روزہ کی حالت میں ہر گز ہرگز مباشرت حرام ہے۔اس سے نہ صرف یہ کہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے بلکہ کفارہادا کرنا بھی لازم ہوجاتا ہے۔
اگر چہ…! روزہ کی حالت میںمیاں بیوی کااکٹھے بیٹھنا ، لیٹنا ، بوسہ لینا بغلگیر ہونا (Kissing and hugging)یہ سب جائز ہے ؛
اس سلسلہ میں حضرت ابو عبداللہ محمدبن اسماعیل المعروف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری جلد اوّل باب الصوم میں کئی احادیث بیان کرتے ہیں اور دیگر مواقع پربھی اُمہات المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہااور حضرت عائشہ صدیقہرضی اللہ عنہا کی روایت موجود ہیں کہ نبی پاک ﷺ روزے سے ہوتے اور اسی حالت میں اپنی ازواج مطہرات کا بوسہ لے لیتے تھے۔
اس سے واضح ہواکہ روزہ کی حالت میں بیوی کا بوسہ لے لینا ناجائز نہیں مگراسلاف اور حکماء اس وجہ سے منع کرتے ہیں کہ کہیں فریقین بے خودی میں قوت برداشت کی کمی اورشدت جذبات کی وجہ سے اللہ رب العزت کی قائم کردہ حدوں کو عبور نہ کربیٹھیں۔
اور ان اوقات ممنوع میں مباشرت کرکے گہنگار نہ ہوں۔البتہ جوفرد اپنے جوش وجذبات پر’’مکمل قابوFull control‘‘رکھتا ہووہ روزہ کی حالت میں اپنی زوج سے بوس وکنار اوربغل گیر ہو سکتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ مردچاہے اپنا عضو تناسل کا سرا‘‘ ہی بیوی کی شرم گاہ میں داخل کرے گا تودونوںکے روزے ٹوٹ جائیں گے چاہے انزال ہو یانہ ہو۔
اگرروزہ کی حالت میں مباشرت کاشغل کرنے میں دلی ارادہ بیوی کابھی ہو تو دونوں پر اس روزہ کے توڑنے کا کفارہ لازم ہوگیا۔
لیکن بیوی کی خواہش اور ارادہ تو نہ تھامگر خاوندنے زبردستی،مجبورکرکے دخول کر لیااور مرد کے انزال تک بیوی رضامندی کی
بجائےکراہت و نفرت وناخوشی کا اظہارکرتی رہی ہوتواس طرح بیوی پر کفارہ لازم نہیں ہوگاالبتہ اس روزہ کی قضا ہر صورت بیوی پر بھی لازم ہوگی۔
سوئی ہوئی بیوی یا بیہوش پڑی ہوی بیوی سے جماع کرنے سے بھی بیوی کا روزہ ٹوٹ جائے گا اس پرقضا واجب ہوگی کفارہ نہیں البتہ خاوندپرکفارہ واجب ہو گا ۔
دوسرا یہ کہ اگرآغاز مباشرت پر بیوی کی خواہش ورضامندی تونہ تھی مگراس دورانِ مشغولیت بیوی خود بھی لذت کے حصول میں کوشاں رضا مند اور خوش ہوجاتی ہے یعنی کہ اس وقت یہ شہوانی لذت دونوں میاں بیوی ہر دونوں فریق نے مل کرباہمی رضامندی سے حاصل کی تو اس پر بھی روزہ توڑنے کاکفارہ لازم ہوگا ۔
بحوالہ فتاویٰ عالمگیری۔
نوٹ :روزے کی قضاء،کفارہ اور فدیہ کے احکام بارے فضائل رمضان کے متعلق کوئی مسند معلوماتی کتاب مطالعہ کریں یااپنے قریبی عالم دین سے مشورہ کریں وہ آپ کو مسائل میں آپ کی بہتر رہنمائی کریں گے۔
از: اسلامی آدابِ مباشرت ،
مصنف:حکیم افتخار الحسن رائیونڈی

Comments
Post a Comment