پیشاپ کو روکے رکھنے کے طبی نقصانات Medical disadvantages of holding urine
اس موضع پر کچھ تفصیلی بات چیت کرتے ہیں
*بہت اہم طبی موضوع ہے، کیونکہ بہت سے لوگ مصروفیت، سفر یا سستی کی وجہ سے پیشاب روکنے کی عادت بنا لیتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ آئیے اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں:
انسانی جسم میں گردے مسلسل خون صاف کر کے فاضل مادّے پیشاب کی صورت میں مثانے میں جمع کرتے رہتے ہیں۔ جب مثانہ بھر جاتا ہے تو جسم فطری طور پر خارج کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس تقاضے کو بار بار نظر انداز کرنا مختلف مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
مثانے کی کمزوری (Bladder Weakness)
زیادہ دیر تک پیشاب روکنے سے مثانہ غیر ضروری حد تک پھیل جاتا ہے۔
!اس کے نتیجے میں:
* مثانے کے عضلات کمزور ہو سکتے ہیں۔
* مکمل طور پر پیشاب خارج نہ ہو پانے کی شکایت ہو سکتی ہے۔
* بار بار پیشاب آنے کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
! پیشاب کی نالی کا انفیکشن (UTI)
جب پیشاب زیادہ دیر مثانے میں رکا رہے تو جراثیم بڑھنے لگتے ہیں۔
اس سے:
* جلن کے ساتھ پیشاب۔ * بدبو دار پیشاب۔ * بخار۔ * کمر یا پیٹ میں درد۔ ہو سکتا ہے۔
خواتین میں یہ مسئلہ مردوں کی نسبت زیادہ عام ہے۔
گردوں پر دباؤ (Kidney Stress)
مسلسل پیشاب روکنے سے مثانے میں دباؤ بڑھتا ہے، جو بعض اوقات گردوں تک واپس منتقل ہو سکتا ہے۔
:اس سے * گردوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔* انفیکشن اوپر کی طرف جا سکتا ہے۔
* سنگین صورت میں گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
:مثانے میں پتھری بننے کا خطرہ
پیشاب کے زیادہ دیر رکے رہنے سے اس میں موجود نمکیات جم سکتے ہیں، جس سے:
* مثانے کی پتھری ۔ * درد(pain)۔ * پیشاب میں خون جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
: اعصابی نظام پر اثر
کچھ لوگوں میں پیشاب روکنے کی عادت اعصابی کنٹرول کو متاثر کر دیتی ہے،۔
:جس سے * اچانک پیشاب کا اخراج۔ * مثانے کا کنٹرول کم ہونا۔ جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
: کن لوگوں کو خاص احتیاط کرنی چاہیے؟
* بزرگ افراد۔ * شوگر کے مریض۔ * حاملہ خواتین۔ * پیشاب کے انفیکشن کے مریض۔
* مثانے یا گردے کے مریض۔
ان کے لیے پیشاب روکنا زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
: ✔ طبّی مشورہ
* پیشاب کی حاجت محسوس ہوتے ہی اسے مؤخر نہ کریں۔ * پانی مناسب مقدار میں پئیں۔ * سفر میں پیشگی منصوبہ بنائیں۔ * بچوں کو پیشاب روکنے کی عادت نہ ڈالیں۔
**“صحت کا راز صرف بڑی بیماریوں سے بچاؤ میں نہیں، بلکہ جسم کے فطری تقاضوں کا احترام کرنے میں ہے۔ جو شخص اپنی عادتوں کو درست رکھتا ہے، وہ اکثر بیماریوں سے خود ہی محفوظ رہتا ہے۔ **
*** تحریر: حکیم افتخار الحسن رائیونڈی
از: افتخارِحکمت

Comments
Post a Comment