کیا اپ جانتے ہیں کہ دنیا موجودایک کثیر عمارت کی تمام مکین
الگ الگ وقت پر روزہ کیوں افطار کرتے ہیں
!اگر آپ کلک بڑھانا چاہتے ہیں:
**حیران کن حقیقت: برج خلیفہ میں رہنے والے ایک وقت پر افطار نہیں کرتے!**
4. حیران کن حقیقت: برج خلیفہ میں رہنے والے ایک وقت پر افطار نہیں کرتے!
5. دبئی کی فلک بوس عمارت میں روزہ افطار کا وقت منزل کے ساتھ کیوں بدلتا ہے؟
6. ایک عمارت، کئی افطار: برج خلیفہ کا دلچسپ راز
اسلامی و سائنسی رنگ کے ٹائٹل
7. سورج، بلندی اور روزہ: برج خلیفہ میں افطار کے مختلف اوقات کی حقیقت
8. فلکیات اور فقہ کی روشنی میں برج خلیفہ کے افطار کا مسئلہ
9. جب بلندی بڑھ جائے تو افطار کا وقت کیوں بدلتا ہے؟ برج خلیفہ کی مثال
**برج خلیفہ میں مختلف منزلوں پر روزہ مختلف وقت میں کیوں افطار ہوتا ہے؟**
!تو تفصیل جنیں اس مضمون میں:

جی ہاں یہ یہ ہے دبئی میں موجود کثیر المنزلہ برج خلیفہ جہاںکی تمام منزلوں میں سحر و افطار یعنی کہ طلوع آفتاب کے اوقات میں فرق ہے۔کیوںکہ برج خلیفہ کی تمام منزلوں میں سحر و افطار کے اوقات میں فرق کی بنیادی وجہ بلندی کی زیادتی ہے۔ یہ عمارت دنیا کی بلند ترین عمارت ہے، جس کی اونچائی تقریباً 828 میٹر (2,717 فٹ) ہے۔

وجہ کیا ہے؟
زمین سے بلندی پر جانے کے ساتھ ساتھ سورج دیر سے غروب اور جلدی طلوع ہوتا ہے، کیونکہ نظارے کا زاویہ (angle of view) بدل جاتا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ:
بلند منزلوں سے سورج تھوڑی دیر زیادہ نظر آتا ہے، یعنی غروب دیر سے ہوتا ہے۔
اسی طرح طلوع آفتاب بھی بلند منزلوں سے پہلے نظر آتا ہے۔
!برج خلیفہ کے لیے مخصوص سحر و افطار کے اوقات
دبئی کے علما نے برج خلیفہ کے رہائشیوں کے لیے روزے کے اوقات میں فرق واضح کیا ہے:
150ویں منزل سے اوپر: افطار میں 3 منٹ تاخیر کریں۔
80ویں منزل سے 150ویں منزل تک: افطار میں 2 منٹ تاخیر کریں۔
80ویں منزل سے نیچے: عام دبئی کے وقت کے مطابق افطار کریں۔
یہی اصول فجر کے وقت پر بھی لاگو ہوتا ہے، یعنی بلند منزلوں کے لوگ 2-3 منٹ تاخیر سے سحری ختم کریں گے۔
!نتیجہ
برج خلیفہ میں روزے کے اوقات کا فرق اونچائی کی وجہ سے سورج کے غروب و طلوع میں ہونے والی تاخیر کی وجہ سے ہے۔ اسی وجہ سے علما نے اس کے لیے الگ اوقات طے کیے ہیں تاکہ ہر منزل پر موجود افراد کے روزے درست اوقات کے مطابق ہوں۔
!برج خلیفہ کی کل منزلیں
دنیا کی بلند ترین عمارت **Burj Khalifa**، جو **Dubai** میں واقع ہے، اس کی:
* کل منزلیں: **163 فلور (منزلیں)**
* زیرِ زمین دع منزلیں ہیں: * مجموعی بلندی: تقریباً **828 میٹر**
! یہی غیر معمولی بلندی اس بات کا سبب بنتی ہے کہ:
اوپر اور نیچے رہنے والوں کے لیے **غروبِ آفتاب کے اوقات میں چند منٹ کا فرق** پیدا ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے وہاں رہائشیوں کو مختلف اوقات میں افطار کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
عام طور پر رہنما اصول یہ ہیں:
* نچلی منزلیں → شہر کے اذان وقت پر افطار۔
* درمیانی منزلیں → تقریباً 2 منٹ بعد۔
* بالائی منزلیں → تقریباً 3 منٹ بعد۔
تحریر: حکیم افتخار الحسن رائیونڈی
از:، افتخارِحکمت،
Comments
Post a Comment