گدھی کے دودھ کے اہم راز اور فوائد Important secrets and benefits of donkey milk
اسلامی شریعت میں حلال اور حرام کا تعین قرآن و سنت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ طبی فوائد کی وجہ سے **گدھی کے دودھ** کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ آیا اسے پینا جائز ہے یا نہیں۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ شریعت میں **گھریلو گدھے** اور **جنگلی گدھے** کے احکام مختلف ہیں۔
:گدھی کا دودھ کن بیماریوں کا علاج ہے!
!گدھی کے دودھ کا حکم: اسلامی فقہ اور احادیث کی روشنی میں حقیقت:
گھریلو گدھے کا حکم احادیث میں واضح طور پر ذکر ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے **گھریلو گدھوں کے گوشت ** سے منع فرمایا۔
:حضرت جابر بن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کی اجازت دی۔ > (صحیح البخاری: 4219، صحیح مسلم: 1941)
ایک اور روایت میں آیا ہے:
رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔
> (صحیح مسلم)
فقہاء کا اصول ہے کہ **جس جانور کا گوشت حرام ہو اس کا دودھ بھی حرام ہوتا ہے**۔
اسی لیے فقہ **حنفی، شافعی اور حنبلی** کے مطابق **گھریلو گدھی کا دودھ پینا جائز نہیں**۔
! جنگلی گدھے کا حکم
اسلامی شریعت میں **جنگلی گدھا (گورخر)** حلال جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا، صحابہؓ نے اس کا گوشت کھایا، پھر نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
> “یہ ایک کھانا ہے جو اللہ نے تمہیں کھلایا ہے۔”
> (صحیح البخاری: 2571، صحیح مسلم: 1196)
چونکہ اس کا گوشت حلال ہے، اس لیے فقہاء کے نزدیک **اس کا دودھ بھی حلال ہے**۔
!خلاصہ
اسلامی فقہ کی روشنی میں حکم یہ ہے:
* گھریلو گدھی کا دودھ: **حرام**
* جنگلی گدھی کا دودھ: **حلال**
اس لیے عام طور پر جو گدھا انسانوں کے ساتھ رہتا ہے اس کا دودھ پینا جائز نہیں سمجھا جاتا۔
! اختتامی بات
اسلام ہمیں حلال اور پاکیزہ چیزیں استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ کھانے پینے کے معاملات میں **شریعت کی رہنمائی** کو مقدم رکھے اور مشتبہ چیزوں سے بچنے کی کوشش کرے۔
حکیم افتخارالحسن رائیوندی
افتخارِ حکمت
Comments
Post a Comment