جگر کی پہلی پیوندکاری First liver transplant
جگر انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہے جو خون کو صاف کرنے، زہریلے مادوں کو خارج کرنے اور ہاضمہ میں مدد دینے جیسے اہم فرائض انجام دیتا ہے۔ جب جگر شدید بیمار ہو جائے اور اپنا کام چھوڑ دے تو اس کا واحد مؤثر علاج *پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ)* ہوتا ہے۔
جگر کی پہلی پیوندکاری کب ہوئی؟
دنیا میں جگر کی پہلی کامیاب پیوندکاری کی کوشش **1963ء** میں کی گئی۔
یہ تاریخی کارنامہ مشہور امریکی سرجن
**Thomas Starzl**
نے **ڈینور، ریاستہائے متحدہ* میں انجام دیا۔
تاہم یہ ابتدائی آپریشن مکمل طور پر کامیاب نہیں تھا اور مریض زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکا۔
: ✦ پہلی کامیاب جگر پیوندکاری
حقیقی معنوں میں پہلی کامیاب جگر پیوندکاری **1967ء** میں ہوئی، جب ڈاکٹر اسٹارزل نے ایک مریض کو کامیابی سے نیا جگر منتقل کیا اور مریض کچھ عرصہ تک زندہ رہا۔
: ✦ ابتدائی مشکلات
ابتدائی دور میں جگر کی پیوندکاری کو کئی مشکلات کا سامنا تھا:
* جسم کا نئے عضو کو قبول نہ کرنا (مستردکرنا)
* انفیکشن کا خطرہ
* جدید ادویات کی کمی
* سرجری کے پیچیدہ مراحل
* خون کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں دشواری
: ✦ جدید ترقی
وقت کے ساتھ ساتھ طب میں بے پناہ ترقی ہوئی:
(Immunosuppressant)
* امیونوسپریسنٹ ادویات کی ایجاد
* سرجری کے جدید آلات
* بہتر(آئی سی یو) سہولیات
* اعضا کی محفوظ منتقلی کے طریقے
آج جگر کی پیوندکاری ایک کامیاب اور عام سرجری بن چکی ہے۔
✦ جگر کی پیوندکاری کن مریضوں کے لیے؟
یہ عمل درج ذیل بیماریوں میں کیا جاتا ہے:
* جگر کا فیل ہونا (Liver Failure)
* ہیپاٹائٹس B اور C
* جگر کا کینسر
* سروسس (Cirrhosis)
* پیدائشی جگر کی بیماریاں
: ✦ جگر پیوندکاری کے مراحل
1. مریض کا مکمل طبی معائنہ
2. ڈونر (عطیہ دینے والے) کا انتخاب
3. سرجری (خراب جگر نکال کر نیا جگر لگانا)
4. بعد از آپریشن نگہداشت
5. ادویات کا مستقل استعمال
: ✦ کامیابی کی شرح
آج کے دور میں:
* جگر پیوندکاری کی کامیابی کی شرح 85% سے زیادہ ہے
* مریض کئی سال بلکہ پوری زندگی بھی گزار سکتے ہیں
: ✦ اہم احتیاطی تدابیر
پیوندکاری کے بعد مریض کو چاہیے:
* باقاعدہ ادویات استعمال کرے
* انفیکشن سے بچاؤ کرے
* صاف غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائے
* ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرے
جگر کی پیوندکاری طب کی دنیا کا ایک عظیم کارنامہ ہے، جس نے لاکھوں زندگیوں کو نئی امید دی۔ **1963ء** کی ابتدائی کوشش سے لے کر آج تک یہ شعبہ حیرت انگیز ترقی کر چکا ہے۔ ڈاکٹر *(*تھامس اسٹارزل*) کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی جنہوں نے اس میدان کی بنیاد رکھی۔
: ✦ مختصر خلاصہ
* پہلی جگر پیوندکاری: **1963ء**
* پہلی کامیاب پیوندکاری: **1967ء**
* بانی سرجن: **Thomas Starzl**
* موجودہ کامیابی: 85%+
اگر آپ کو یہ معلوماتی مضمون پسند آیا تو اسے ضرور شیئر کریں
صحت سے متعلق مزید مفید معلومات کے لیے ہمارے بلاگ کو فالو کریں
مزید اہم معلوماتی نقاط
جگر عطیہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟
* زندہ فرد (قریبی رشتہ دار)
* دماغی موت کا شکار شخص
* صحت مند جگر رکھنے والا فرد
✦ زندہ ڈونر ٹرانسپلانٹ کیا ہے؟
اس میں ایک صحت مند شخص اپنے جگر کا کچھ حصہ عطیہ کرتا ہے کیونکہ جگر دوبارہ بڑھنے (دوبارہ تخلیق)کی صلاحیت رکھتا ہے۔
✦ جگر دوبارہ بڑھنے کی صلاحیت
جگر انسانی جسم کا واحد عضو ہے جو چند ہفتوں میں دوبارہ اپنی اصل حالت میں آ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زندہ ڈونر ٹرانسپلانٹ ممکن ہے۔
امراض جگر کے متعلق دیگر معلومات کے لیے یہاں پڑھیں۔
: ✦ پیوندکاری کے بعد زندگی
* مریض عام زندگی گزار سکتا ہے
* ورزش اور معمولات زندگی بحال ہو سکتے ہیں
* باقاعدہ چیک اپ ضروری ہوتا ہے
: ✦ پاکستان میں جگر کی پیوندکاری
پاکستان میں بھی اب جگر کی پیوندکاری کامیابی سے کی جا رہی ہے، خاص طور پر:
* Pakistan Kidney and Liver Institute
* Shifa International Hospital
یہ ادارے جدید سہولیات کے ساتھ یہ خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
✦ کن علامات پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
* آنکھوں اور جلد کا پیلا ہونا (یرقان)
* شدید کمزوری
* پیٹ میں سوجن
* بھوک کی کمی
* متلی اور قے
یہ مضمون نہ صرف معلوماتی ہے بلکہ انسانی زندگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ جگر کی پیوندکاری واقعی طب کا ایک عظیم معجزہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحت کاملہ عطا فرمائے اور ہمیں ایسی بیماریوں سے محفوظ رکھے۔ آمین
:آپ کی دعاؤں کا طلب گار
حکیم افتخارالحسن رائیونڈی

Very infrequently
ReplyDelete