کالی کھانسی کی وجوہات اور علاج کیاہے؟ What are the causes and treatment of whooping cough
**کالی کھانسی** جسے انگریزی میں
**Whooping Cough*
* یا *
*Pertussis*
کہا جاتا ہے، ایک *انتہائی متعدی (چھوت کی) بیماری* ہے جو خاص طور پر بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔
کالی کھانسی کیا ہوتی ہے؟
یہ ایک ایسی کھانسی ہے جس میں:
* بار بار اور شدید کھانسی کے دورے پڑتے ہیں *
* کھانسی کے بعد سانس لیتے وقت **سیٹی جیسی آواز آتی ہے جیسے وہوپ۔
(Whoop)**
* بعض اوقات مریض کا چہرہ نیلا پڑ جاتا ہے
* کالی کھانسی کی وجوہات *
اس بیماری کی اصل وجہ ایک بیکٹیریا ہے:
**Bordetella pertussis**
یہ جراثیم: * کھانسنے اور چھینکنے سے پھیلتے ہیں۔
* متاثرہ شخص کے قریب رہنے سے منتقل ہوتے ہیں۔
* خاص خطرے میں *
* چھوٹے بچے۔
* کمزور مدافعتی نظام والے افراد۔
* وہ بچے جن کی ویکسین مکمل نہ ہوئی ہو۔
علامات: (Symptoms)
* مسلسل شدید کھانسی۔
* کھانسی کے بعد الٹی۔
* سانس لینے میں مشکل۔
* بخار ہلکا یا نہ ہونے کے برابر۔
* بچوں میں دودھ پینے میں مشکل۔
علاج (Treatment)
میڈیکل علاج
* ڈاکٹر عام طور پر اینٹی بائیوٹکس دیتے ہیں۔
* جلد علاج شروع ہو تو بیماری جلد کنٹرول ہو جاتی ہے۔
* بعض کیسز میں ہسپتال میں داخلہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
* گھریلو احتیاطی تدابیر *
* مریض کو آرام دیں۔
* پانی اور گرم مشروبات زیادہ دیں۔
* کمرے کی ہوا صاف اور نم رکھیں۔
* دھول اور دھوئیں سے بچائیں۔
دیسی / یونانی معاون علاج
(صرف معاون، اصل علاج ڈاکٹر کے مشورے سے کریں)
* شہد + ادرک کا رس۔
* تلسی کے پتے کا قہوہ۔
* گرم پانی کی بھاپ۔
بچوں کو شہد *1 سال سے کم عمر* میں نہ دیں۔
*کالی کھانسی سےبچاؤ یعنی روک تھام
(Prevention)
سب سے مؤثر طریقہ:
ویکسین کرانا ہے۔
(DTaP / Pentavalent)
* بچوں کو بروقت ٹیکے لگوائیں۔
* بیمار شخص سے فاصلہ رکھیں۔
* ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھیں۔
* اہم تنبیہ * اگر:
* بچہ سانس نہ لے پا رہا ہو۔
* نیلا پڑ رہا ہو۔
* یا مسلسل الٹیاں ہو رہی ہوں۔
فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
* **احتیاطی تدابیر:** متاثرہ بچے کو دیگر بچوں سے الگ رکھنا اور ہوا دار کمرے کا انتظام۔
* **قدرتی حل:** شہد، ادرک اور مخصوص جڑی بوٹیوں کا صحیح استعمال کس طرح اس کی شدت کو کم کر سکتا ہے۔
* **غذائی پرہیز:** کھٹی اور تلی ہوئی اشیاء سے مکمل اجتناب۔
✨ خلاصہ
کالی کھانسی ایک خطرناک مگر قابلِ علاج بیماری ہے،
✔ *بروقت تشخیص۔ ✔ *مناسب علاج۔
✔ *اور ویکسینیشن سے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔
حکیم افتخارالحسن رائیونڈی

Comments
Post a Comment