آنکھ کا پہلا آپریشن First eye operation
آنکھ انسانی جسم کا نہایت حساس اور قیمتی عضو ہے، اور اس کی سرجری (آپریشن) طب کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل رہی ہے۔ آج ہم اس موضوع پر ایک جامع اور معلوماتی مضمون پیش کرتے ہیں جس میں آنکھ کے پہلے آپریشن کی تاریخ، ارتقاء، اور جدید ترقیات کا احاطہ کیا جائے گا
آنکھ کا پہلا آپریشن کب اور کہاں ہوا؟
تاریخی شواہد کے مطابق آنکھ کا پہلا باقاعدہ آپریشن تقریباً **800 قبل مسیح** میں کیا گیا۔ اس کارنامے کا سہرا قدیم ہندوستان کے عظیم طبیب (سشروتا)کے سر جاتا ہے، جنہیںجراحی کا باپ (Father of Surgery)
بھی کہا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنی مشہور کتاب
Sushruta Samhita
میں آنکھ کے امراض خصوصاً موتیا (موتیا بند) کے علاج کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
:قدیم دور کا طریقہ علاج
(Couching Technique)
(کوچنگ تکنیک)
قدیم زمانے میں موتیا کے علاج کے لیے جو طریقہ استعمال کیا جاتا تھا اسے *کوچنگ * کہا جاتا ہے۔
: طریقہ کار
* ایک باریک نوک دار آلہ استعمال کیا جاتا تھا
* آنکھ کے اندر موجود دھندلے عدسے (لینز) کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا جاتا تھا۔
* اس طرح روشنی آنکھ کے اندر داخل ہو کر جزوی بینائی بحال کر دیتی تھی۔
: نقصانات
* یہ طریقہ خطرناک تھا
* انفیکشن کا شدید خطرہ ہوتا تھا
* مکمل بینائی بحال نہیں ہوتی تھی
: اسلامی سنہری دور میں ترقی
اسلامی دور میں طب اور جراحی نے نمایاں ترقی کی۔ مشہور سائنسدان
Ibn al-Haytham
(ابن الہیثم) نے بصارت (آپٹک) پر تحقیق کر کے آنکھ کی ساخت اور روشنی کے اصولوں کو واضح کیا۔ان کی کتاب(بک آف آپٹک) نے بعد کے یورپی سائنسدانوں پر گہرا اثر ڈالا اور آنکھ کے علاج میں سائنسی بنیاد فراہم کی۔
: جدید دور میں آنکھ کے آپریشن کی ترقی
وقت کے ساتھ آنکھ کے آپریشن میں حیرت انگیز ترقی ہوئی:
: اہم سنگ میل
*18ویں صدی*: جدید سرجری کے اصول متعارف ہوئے
*20ویں صدی*: محفوظ اور مؤثر موتیا آپریشن شروع ہوا
*Phacoemulsification**
الٹراساؤنڈ کے ذریعے عدسے کو توڑ کر نکالا جاتا ہے
(لاسک) لیزر کے ذریعے نظر درست کی جاتی ہے
: آنکھ کے آپریشن کی اہمیت
* بینائی کی بحالی ممکن ہوتی ہے
* اندھے پن سے بچاؤ ہوتا ہے
* معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے
* جدید طریقے محفوظ اور تیز ہیں
آجکل بعض لوگوں کو آنکھ پڑھکنے کی شکائت ہوتی ہے اس کی وجوہات یہاں دیکھیں ضرور۔
آنکھ کے پہلے آپریشن کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان نے صدیوں کی محنت اور تحقیق سے طب کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔(سشروتا) کے ابتدائی تجربات سے لے کر آج کی جدید لیزر سرجری تک کا سفر انسانی عقل، ہمت اور علم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آج آنکھ کے آپریشن نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ چند منٹوں میں مکمل ہو جاتے ہیں، جو قدیم دور کے معالجین کے لیے ایک خواب تھا۔
یہ معلومات پسند آئیں تو اسے اپنے دوستوں کو شیئر ضرور کریں۔
:آپ کی دعاؤں کاطلبگار
حکیم افتخارالحسن رائیونڈی

Comments
Post a Comment